(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اطلاعات کے مطابق سنہ نوے کی دہائی کے آخر میں ایک آپریشن کے ذریعے امریکہ اور برطانیہ کی ایجنسیوں نے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو ہیک کیا تھا۔
دیر سپیگل اور دی انٹرسیپٹ ویب سائٹ کے مطابق اس کی وجہ سے اسرائیل کے اتحادیوں کو ان معلومات کی نگرانی کرنے کا موقع ملا جس کی انھیں جاسوسی کے مشن کے لیے ضرورت تھی۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشاں کیے گئے مواد سے حاصل ہوئی ہے۔
اسرائیل کے وزیر کا کہنا ہے کہ ’یہ مایوس کن ہے لیکن حیران کن نہیں۔‘
انٹیلیجنس افیئرز کے سابق وزیر اور کابینہ کے وزیر یوول سٹینیٹز کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ امریکہ دنیا کے ہر ملک کی جاسوسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہماری بھی، اپنے دوستوں کی بھی۔‘
انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے کئی دہائیوں سے امریکہ کی جاسوسی نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ ادارے ان تمام معلومات پر نظر رکھ سکتے تھے جو ڈرونز اور دیگر طیارے واپس بھیجتے تھے۔
پراجیکٹ انارکی میں اسرائیل کے ایف 16 طیاروں کے کاک پٹ کے اندر کی ویڈیوز بھی حاصل کی گئیں
انٹرسیپٹ کے مطابق: ’کاک پٹ میں ان کی ورچول نشست ہوتی تھی جیسے ہی ڈرونز ہدف کو نشانہ بناتے تھے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 2008 میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے میمو میں کہا گیا تھا کہ اس پروگرام کی مدد سے اسرائیل کے ایف 16 طیاروں کے کاک پٹ کی وڈیو حاصل کر سکے ہیں۔
دیر سپیگل اور دی انٹرسیپٹ ویب سائٹ کے مطابق انارکیسٹ نامی منصوبے پر سنہ 1998 سے کام ہو رہا تھا اور اسے طرابلس میں ایک اونچے مقام سے چلایا جا رہا تھا۔
اسرائیل کے اخبار یڈوئتھ اہرونوتھ کا کہنا ہے کہ شمالی انگلینڈ میں موجود امریکی اڈہ بھی اس میں شامل تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد تو اسرائیل تھا لیکن مصر، ترکی، ایران اور شام میں بھی نظام کو ہیک کیا گیا تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کی وزارت خارجہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ خفیہ معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
