(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے جوہری تحقیقاتی ادارے کے ایک سینیر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کو امریکا اور یورپی یونین کے ممبر ممالک سمیت کئی دوسرے بڑے ممالک کا خفیہ تعاون حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے جوہری تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل اوڈے نٹزر نے حال ہی میں تل ابیب یونیورسٹی میں لیچر کے دوران انکشاف کیا ہے کہ صہیونی ایٹمی پروگرام کو امریکا اور یورپی یونین کے کئی سرکاری اداروں کا براہ راست تعاون حاصل ہے۔اوڈے نٹزر کا یہ بیان عبرانی اخبار’’ہارٹز‘‘ نے نقل کرنے کے بعد شائع کیا ہے۔ اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے آج تک جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں مگر اس کے باوجود اسرائیل کے ساتھ عالمی ادارے بدستور تعاون کررہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے متنازع ایٹمی پروگرام کے ساتھ تعاون کرنے والے عالمی اداروں کے نام بھی بتائےجن میں امریکی وزارت توانائی ایجنسی، امریکی محکمہ تحفظ ماحولیات، عالمی توانائی ایجنسی، آئی ای اے، یورپی یونین کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر اور فرانس کا متبادل توانائی کا شعبہ خاص طورپر شامل ہیں جو اسرائیل کے دیمونا پروگرام کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔
اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ مجموعی طور پر ایسے 65 ادارےعالمی ادارے موجود ہیں جو اسرائیلی جوہری ماہرین کی خدمات حاصل کررہے ہیں۔ مگر یہ دو طرفہ تعاون مکمل راز داری میں ہو رہا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے متنازع جوہری پروگرام کی خفیہ عالمی حمایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک طرف دنیا جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کی مہم چلائے ہوئے ہے اور دوسری جانب بڑی طاقتیں اپنی دوغلی پالیسی کے تحت اسرائیل کے جوہری پروگرام کو سپورٹ کررہی ہیں۔ اس انکشاف نے عالمی برادری کے دوغلے پن کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔
