اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں علاقے میں سنہ 2002 ء کی طرز پرایک بڑا زمینی آپریشن کرنے کی دھمکی دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر مواصلات "یسرائیل کاٹز” نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سنہ 2002 ء میں اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں "حفاظتی دیوار” کے نام سے ایک زمینی آپریشن کیا تھا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے تھے۔ اب ایک بار پھر ایسے ہی آپریشن کے لیے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ کسی بھی وقت غرب اردن میں زمینی فوجی دستے داخل کردیے جائیں۔اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ یہودی آباد کاروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس لیے ہم کسی بھی وقت "حفاظتی دیوار 2 ” آپریشن شروع کرسکتے ہیں۔
خیال رہےکہ سنہ 2002 ء میں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں "حفاظتی دیوار” کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ آپریشن سابق فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کے محاصرے تک جاری رہا۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے غرب اردن میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب حالیہ ہفتے کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں مین چار یہودی آباد کار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
