(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے پبلک پراسیکیوٹر نے جمعرات کے روز عرب کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاست دان اور اسرائیلی پارلیمنٹ کی رکن حنین الزعبی پرسرکاری ملازمین کی توہین کرنے کے الزام میں فرد جرم پیش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حنین الزعبی پرالزام ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران مجسٹریٹ کی عدالت میں اسرائیل کے سرکاری ملازمین اور اہلکاروں کی توہین کی تھی۔دوسری جانب حنین الزعبی نے اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے جاری کردہ فرد جرم کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے مجسٹریٹ عدالت میں جو کچھ بھی کہا وہ درست اور ضمیر کی آواز ہے۔ مجھے عدالت میں پیشی کی آڑ میں آٹھ گھنٹے تک پولیس کےحبس بے جا میں رکھا گیا۔ ایک ایسی پولیس جو قانون شکنی کی مرتکب ہے۔ مجھے اس قانون شکن پولیس کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کا بھرپور حق حاصل ہے۔ میرا مقصد کسی ذات کی توہین ہرگزنہیں بلکہ میں صہیونی ریاست کے ظالمانہ اقدامات اور ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں کو ہدف تنقید بنا رہی ہوں۔
خیال رہے کہ حنین الزعبی اور اسرائیلی پولیس کے درمیان چند ہفتے قبل ایک مقدمہ کی سماعت کےدوران تلخ کلامی ہوگئی تھی جس پرحنین الزعبی نے پولیس کو قانون شکن اور ظالم قرار دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اسرائیل کی ایک عدالت حنین الزعبی کے خلاف اسرائیل کےخلاف اشتعال انگیز بیانات دینے اور اسرائیلی تنصیبات پر حملوں پر اکسانے کے الزام میں مقدمہ کی سماعت جاری تھی۔
حنین الزعبی پرالزام ہے کہ اس نے سنہ 2014 ء میں بیت المقدس کے ایک بچے محمد ابو خضیر کے یہودی دہشت گردوں کے ہاتھوں سفاکانہ قتل کے بعد صہیونی ریاست کے خلاف سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو ایسے واقعات کا بدلہ لینے کاحق حاصل ہے۔ اس پرانہیں حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان پر اسرائیل کے خلاف اکسانے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیاتھا۔
