آزاد ممبر پارلیمان جمال الخضری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف ایک عالمی بائیکاٹ کا اہتمام کریں تاکہ اس کو مظالم کی سزا دی جاسکے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ پر اسرائیلی محاصرہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ممبر پارلیمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایک کراسنگ کے علاوہ غزہ کی تمام کراسنگز بند کردی ہیں۔ اور جو ایک کراسنگ کھلی رکھی ہے وہ بھی جزوی طور پر کھلی رکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ کے عوام کی نقل و حرکت اور ان کے سامان کی تجارت پر پابندیاں لگا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
خضری کے مطابق غزہ پر سات سال کے عرصے سے لگایا جانیوالا محاصرہ اس کے رہائشیوں کے لئے ایک اجتماعی سزا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔
ممبر پارلیمان نے اسرائیل کی جانب سے ڈینمارک کے سپیکر پارلیمنٹ موغنس یکیتوفت کو رام اللہ اور غزہ آنے سے روکنے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیل غزہ پر مسلط محاصرہ پوری طرح سے اٹھالے۔ خضری نے بین الااقوامی اداروں کی جانب سے اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری سرگرمیوں پر معاشی بائیکاٹ کی تعریف کی ہے۔
جمال الخضری نے فلسطین کے دوستوں اور آزاد دنیا کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کی حمایت کریں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
