(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل نے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فوج نے جدید آلات سے لیس چھوٹے خود کش بمبار طیارے حاصل کیے ہیں۔ ان طیاروں کی خریداری پر لاکھوں ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو فراہم کردہ نئے خود کش طیارے جسامت میں انتہائی ہلکے ہیں اور ایک فوجی سپاہی ایسے دو چھوٹے طیارے اپنے کندھے پراٹھا سکتا ہے۔ یہ چھوٹے خود کش طیارے دستی بمبوں اور دیگر چھوٹے بمبوں سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ترین کیمروں سے بھی لیس ہیں اور انہیں مقامی سطح پر ’’ریتم‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان طیاروں کو منی کمپیوٹر اور ٹیبلٹ کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ انہیں عموما چھوٹے اہداف پرحملوں یا جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا اور یہ زیادہ تر پیادہ فوج کے استعمال میں لائے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق فوج کے پاس اس سے قبل بھی ’’ھاروپ‘‘ نامی ایسے ہی چھوٹے خود کش طیارے موجود ہیں تاہم ’ریتم‘ طیاروں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ جدید ترین کیمروں اور مواصلاتی آلات سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانت میں انتہائی ہلکے ہیں۔ انہیں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے فضاء میں چھوڑا جاسکتا ہے جو اپنے ہدف پر پہنچ کر اپنے ساتھ لائے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پھٹ سکتا ہے۔
اس سے قبل ھاروپ نامی چھوٹے خود کش بمبار طیارے بھارت اور آذر بائیجان جیسے ملکوں کے پاس بھی موجود ہیں اور یہ فضاء میں سات گھنٹے تک معلق رہنے کے ساتھ ساتھ 12 کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد لے جاسکتے ہیں۔
