(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں حقوق اطفال کے عنوان سے ہونے والی نشست میں بچوں کے تعلق سے چشم گشا رپورٹ پیش کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 20014 میں 12 سے 13 سال کی قریب ایک ہزار یہودی لڑکیاں جسم فروشی میں ملوث پائی گئیں جن میں سے 700 لڑکیوں کا تعلق تل ابیب سے تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان لڑکیوں کے لیے ہمیشہ 30 سے 40 افراد قطار میں رہتے ہیں اور یہ وہ افراد ہیں جو پہلے بھی کئی بار جنسی جرائم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔نیتن یاہو حکومت کی اقتصادی ناکامی اور خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں سے مقابلہ آرائی کی وجہ سے اسرائیل روز بہ روز معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی شہری فقر و تنگدستی کا شکار ہورہے ہیں۔ اقتصادی بحران کی ہی وجہ سے لوگوں میں جسم فروشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔
