قابض اسرائیلی فوجیوں نے منگل کے روز علی الصباح مقبوضہ بیت المقدس میں پچھلے سال کے دوران اسرائیل مخالف مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینی کارکنوں کے آبائی گھر مسمار کردئیے ہیں۔
قابض حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کی اس نئی لہر کو دبانے کے لئے کریک ڈائون کریں۔ اسرائیلی فوجیوں نے اسی اعلان کے لئے اجتماعی سزا کی صیہونی غاصبانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے غسان ابو جمال اور محمد جعبس کے گھروں کو مسمار کردیا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہی فلسطینی کارکن معتز حجازی کے گھر کے ایک کمرے کو کنکریٹ کے ڈھیر لگا کر بند کردیا۔ خدشہ کیا جارہا ہے کہ یہ اقدام اس گھر کی مسماری کے لئے اٹھایا گیا ہے۔
بیت المقدس میں ان انہدامی کارروائیوں کی خبر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں حالیہ دنوں کے دوران قابض حکام کے خلاف حملوں میں شدت کے بعد ذمہ داروں کو سزا دینے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آبادکاروں کی جانب سے دہشت گرد حملوں میں حالیہ اضافے کے باوجود نیتن یاہو نے دھمکی دی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں قابض حکام کے خلاف مزید احتجاج کو روکنے کے لئے ان علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی پولیس اور فوجی اہلکار بھیجے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے قدیم بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے فلسطینی شہریوں پر مزید انتظامی گرفتاریوں اور مسجد اقصیٰ میں پابندی کی سزائیں لگانے کا حکم دیا۔
