عبرانی اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہودیوں کی بیرون ملک نقل مکانی کے چشم کشا انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی بیرون ملک نقل مکانی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہواہے۔
رپورٹ کے مطابق عبرانی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کا احوال بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہودیوں کے بیرون ملک فرار کے اعدادو شمار میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2014 ء کے دوران بیرون ملک سے 10 ہزار 351 یہودی فلسطین میں آباد ہوئے جب کہ اسی عرصے میں 17 ہزار 91 یہودی اسرائیل کو غیرمحفوظ ملک قرار دے کردوسرے ملکوں کو چلے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ اسرائیلی آباد کار فلسطین کے شورش زدہ شہروں سے نکل رہے ہیں۔ غرب اردن اور بیت المقدس کے علاقوں میں یہودی خود کو فلسطین کے بعض دوسرے اندورنی شہروں کی نسبت زیادہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس چھوڑںے والے یہودیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین میں جاری حالیہ تحریک انتفاضہ سے قبل بیت المقدس میں سنہ 2014 ء میں 6 ہزار 740 یہودیوں نے سکونت اختیار کی۔ جب کہ اسی عرصے میں 10 ہزار 351 یہودی بیت المقدس چھوڑگئے۔ بیت المقدس چھوڑنے والے بیشتر یہودیوں کی عمریں 25 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ اسی طرح تل ابیب میں اسی عرصے میں 930 افراد یہودی آباد ہوئے جب کہ تل ابیب چھوڑنے والوں کی تعداد 21 ہزار 449 ہے۔ حیفا میں آنے والے یہودیوں کی تعداد 7708 اور وہاں سے نکلنے والوں کی 8855 بتائی جاتی ہے۔
