(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ کے زیراہتمام آئینی کمیٹی نے کثرت رائے سے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت یہودی آباد کاروں، اسرائیلی فوجیوں اور صہیونی تنصیبات پر حملوں کے شبے میں کسی بھی فلسطینی کو علاقہ یا ملک بدر کیا جاسکے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئینی کمیٹی میں یہ مسودہ قانون اسرائیلی وزیر یسرائیل کاٹز نے پیش کیا تھا، جس پرجمعرات کے روز رائے شماری کی گئی اور کمیٹی کے 11 ارکان نے بل کی حمایت جب کہ دو نے اس کی مخالفت کی۔یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ آئینی کمیٹی سے ان کا پیش کردہ بل منظور ہونا ان کی کامیابی ہے اور اس قانون کے نفاذ سے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے مزاحمتی حملوں میں کمی آئے گی اور اسرائیلی خود کو محفوظ سمجھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون ان فلسطینیوں کے خلاف حرکت میں آئے گا جو صہیونی ریاست کی تنصیبات اور شہریوں پرحملوں سے باز نہیں آتے ہیں۔
انہوں نے فلسطینی شہریوں کے نام اپنے دھمکی آمیز پیغام میں کہا کہ اب تم اپنے بچوں کو اسرائیل پرحملوں سے باز نہ رکھنا۔ دیکھنا کہ فدائی حملہ آوروں کو کس طرح شام کی طرف بے دخل کیاجاسکتا ہے۔
