اسرائیل کے عبرانی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ مسودہ قانون وزیرانصاف ’ایلیٹ چاکیڈ‘ نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں، یہودی آباد کاروں پر حملوں کے الزام میں پکڑے گئے فلسطینی بچوں کو عمر قید کی سزا دی جائے چاہے ان کی عمریں چودہ سال یا اس سے بھی کم کیوں نہ ہوں۔
اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہ مکروہ ہتھکنڈہ ایک ایسےوقت میں اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی بچوں کی تعداد 500 سے زائد ہے اور ان میں سے بیشتر کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔ کئی بچوں کی عمریں 14 سال سے بھی کم ہیں۔ اسرائیل میں 18 سال یا اس سے بھی کم عمر کے بچوں کو سزائیں دینا معمول کی بات ہے مگر اب یہ ظالمانہ سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے 14 سال اور اس سے بھی کم عمر بچوں تک لایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی خاتون وزیر انصاف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس مجوزہ قانون کی منظوری سے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ القدس روکنے میں مدد ملے گی کیونکہ بیشتر فلسطینی بچے گرفتاری کے بعد چھوٹ جاتے ہیں اور وہ دوبارہ مزاحمتی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر پارلیمنٹ کم عمر فلسطینی بچوں کو بھی عمر قید کی سزا تجویز کرتی ہے تو فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ خود ہی دم توڑ جائے گی۔
