(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے سابق چیف ربی یونا مستگر پر اپنے منصب سے جائز فائدہ اٹھانے، غیرقانونی مراعات سمیٹنے اور رشوت وصول کرنے کے الزامات کے تحت مرکزی عدالت میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق چیف ربی مستگر پر کرپشن اور رشوت لینے کے الزام کے تحت پہلے بھی مقدمہ چلایا گیا تھا مگر اس کا کوئی فیصلہ نہیں کیا سکا۔ ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو ایک سے دو سال کے درمیان قید کی سزا ہوسکتی ہے تاہم سرکاری پراسیکیوٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت وصولی کا الزام سنگین ہے اور اس جرم کے ثابت ہونے کی صورت میں سابق یہودی ربی کو زیادہ سےزیادہ عرصے کی قید کی سزا سنائی جائے۔
