مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک غیرقانونی یہودی کالونی مسمار کیے جانے کے اسرائیلی حکومت کے اعلان پر انتہا پسند صہیونی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل ایک شدت پسند مذہبی جماعت ’’جیوش ہوم‘‘ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو دھمکی دی ہے کہ اگرانہوں نے غرب اردن میں قائم ’’عمونا‘‘ نامی یہودی کالونی کو مسمار کرنے کے احکامات دیے تو وہ حکومت کے خلاف سخت اقدامات کریں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیوش ہوم کے سربراہ جو اسرائیلی کابینہ میں وزیر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ وہ غرب اردن میں قائم ’عمونا‘ نامی یہودی کالونی کو مسمار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس دھمکی کے بعد نیتن یاھو نے جیوش ہوم کے سربراہ، وزیر قانون وانصاف ایلیت چاکید اور وزیر فاع آوی گیڈور لائبرمین کے علاوہ حکومتی امور کے نگران یواف مردخائی کو ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ ’عمونا‘ کالونی کی مسماری کے عدالتی فیصلےپر متفقہ لائحہ عمل جاری کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے غرب اردن میں قائم کی گئی یہودی کالونی ’عمونا‘ کو غیرقانونی قرار دے کر مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت چھ ماہ کے اندر اندر اس کالونی کو خالی کرائے۔
