(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے تاریخی اور مقدس شہر مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی نام نہاد بلدیہ نے سوموار کی شام کو چار روزہ موسیقی میلے کے انعقاد کا مذموم اقدام کیا ہے جس پر فلسطین بھر میں سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کی ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ موسیقی میلہ سوموار سے جمعرات 31 مارچ تک جاری رہے گا۔ اس دوران اس میلے میں اسرائیل اور بیرون ملک سے بھی فن کار اور سیاح شرکت کریں گے۔ موسیقی میلے کے لیے پرانے بیت المقدس میں سلیمان الکتان غار اور بیت المقدس کے باب الخلیل اور الجدید کے مقامات مختص کیے گئے ہیں۔ اس میلے کے انعقاد کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشوں میں تیزی لانا اور عالمی سطح پر بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی مذموم کوشش ہے۔بیت المقدس میں موسیقی میلے کے انعقاد کے رد عمل میں بیت المقدس کی یہودی توسیع پسندی کے خلاف قائم کمیٹی کے چیئرمین ناصر ھدمی نے بتایا کہ اسرائیل ہماری سرزمین کو یہودی رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔ بیت المقدس میں یہودی موسیقی میلہ بیت المقدس اور فلسطینی تاریخ، ثقافت اور زمین پربراہ راست حملہ ہے۔ اس طرح کی سازشوں سے اسرائیل اپنا مکروہ نسل پرستانہ چہرہ دنیا سے چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی علماء نے بھی بیت المقدس میں یہودیوں کے موسیقی میلے کے انعقاد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علماء ، سماجی اور سیاسی شخصیات نے عالم اسلام پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس کا تاریخی تقدس پامال کرنے کی اسرائیلی سازشوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔
