رپورٹ کے مطابق لندن میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ’برطانیہ۔ فلسطین کلب‘ کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں برطانیہ میں موجود فلسطینی شہریوں، عرب باشندوں ، مسلمانوں اور برطانیہ کے انسانی حقوق کے مندوبین نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں ان فلسطینی بچوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جنہیں صہیونی فوج نے نہایت بے رحمی کے ساتھ ان کے گھروں سے اٹھا کر زندانوں میں ڈال رکھا ہے۔
مظاہرین نے اسرائیل کی فلسطینیوں کو قید میں ڈالنے اور انہیں کڑی سزائیں دینے کی وحشیانہ پالیسی کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالمی برادری اور یورپی یونین اسرائیلی قید خانوں میں بند فلسطینیوں کی رہائی کے لیے صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی دو درجن سے زائد جیلوں میں کم سے کم 7000 ہزار فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں 400 بچے جن کی عمریں 15 سے 17 سال کے درمیان ہیں جب کہ 70 خواتین بھی پابند سلاسل ہیں۔
