رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی خاتون مندوبہ حنان الخطیب نے بتایا کہ انہوں نے ’’بوریا‘‘ نامی جیل کی اسپتال میں اردنی قیدی عبداللہ جابر سے ملاقات کی ہے۔ عبداللہ جابر 8 نومبر 2015 ء سے اس اسپتال میں بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے تھے۔ حنان الخطیب نے بتایا کہ عبداللہ ابو جابر نے اسرائیلی جیلروں کے ظالمانہ رویے کے خلاف 78 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ مطالبات تسلیم کئے جانے کے بعد انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ اسرائیلی جیلروں نے اسے یقین دلایا ہے کہ اس کے عزیزو اقارب کی اس سے ملاقات پرپابندی ختم کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسے قید تنہائی سے بھی نکال دیا جائے گا اور ساتھ ہی اسے جلد ہی اردن بھیج دیا جائے گا جہاں وہ اپنی 20 سالہ قید میں سے بقیہ 5 سال اپنے ملک ہی میں کاٹیں گے۔
حنان الخطیب نے بتایا کہ عبداللہ جابر کی طویل بھوک ہڑتال کے باعث اس کی طبی حالت نہایت تشویشناک ہے تاہم بھوک ہڑتال ختم ہونے کےبعد وہ تیزی کے ساتھ روبہ صحت ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں 7800 فلسطینی پابند سلاسل ہیں جن میں سے 26 کا تعلق اردن سے ہے۔ اسیران میں 420 بچے اور 55 خواتین بھی شامل ہیں۔ سنہ 1967 ء کے بعد اسرائیل کی جیلوں مین طویل بھوک ہڑتالوں اور اسرائیلی جیلروں کے تشدد کے نتیجے میں 208 فلسطینی قیدی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
