(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اردنی ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت نے ملک کے جنوب میں واقع سیاحتی صوبہ البتراء میں موجود املاک پر یہودیوں کے قبضے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت اسرائیلیوں کو اس بناء پرالبتراء میں داخلے کی اجازت نہ دے کہ وہاں پران کی املاک موجود ہیں۔ البتراء میں یہودیوں کی املاک کا کوئی وجود نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اردنی پارلیمنٹ کی جانب سے البتراء میں یہودیوں کی املاک کے حوالے سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں دو اسرائیلی یہودیوں کو البتراء میں املاک حاصل کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اس پر رکن پارلیمنٹ نے ایوان کی انتظامی کمیٹی کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا اور ان پوچھا کہ آیا البتراء میں یہودیوں کی تاریخی املاک موجود ہیں یا نہیں۔
خیال رہے کہ عمان کے جنوب میں 260 کلو میٹر کی دوری پر واقع صوبہ البتراءکے تاریخی مقامات کو سنہ 2007 ء میں ساتواں عالمی عجوبہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اسرائیل نےان تاریخی مقامات کی ملکیت کا دعویٰ کردیا تھا۔
