رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق رابرٹ پیر نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل فلسطین کے دوما قصبے میں سعد دوابشہ نامی شہری اور اس کے پورے خاندان کو گھرمیں آگ لگا کرزندہ جلائے جانے کے واقعے کے اکلوتے عینی شاہد کے مکان کو نذرآتش کرنا اس بات کا ثبوت کے کہ فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والے عناصر اپنی کارروائی کے تمام حقائق مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم دوابشہ سعد دوابشہ فیملی کو زندہ جلائے جانے کے واحد گواہ ہیں۔ انہیں نقصان پہنچانے والے دوبشہ کیس کے حقائق چھپانے کی کوشش کررہےہیں۔
خیال رہے کہ اتوار کو علی الصباح نامعلوم شرپسند یہودیوں نے ابراہیم محمد دوابشہ نامی ایک شہری کےمکان کو اس وقت آگ لگا دی تھی جب وہ اپنے بچوں کے ہمراہ گھرمیں سوئے ہوئے تھے۔ آتش زدگی کے باعث ابراہیم اور اس کی اہلیہ جھلس کر زخمی ہوگئے تھے تاہم باقی افراد محفوظ رہے تھے۔
ابراہیم دوابشہ پچھلے سال جولائی میں سعد دوابشہ نامی فلسطینی خاندان کو یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں میں گھرمیں آگ لگا کر زندہ جلائے جانے کے واقعے کے واحد عینی شاہد ہیں۔ سعد دوابشہ خاندان کو گھرمیں آگ لگا کرزندہ جلا دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سعد دوابشہ، اس کی اہلیہ اور ایک ڈیڑھ سال کا شیرخوار زندہ جل کر شہید ہوگئے تھے جب کہ ایک چار سالہ بچہ احمد بری طرح جھلس گیا تھا۔
