فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اخبار’’یدیعوت احرونوت‘‘ میں شائع رپورٹ میں رواں سال (2016ء) کے اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں 28.1 فی صد ایسے نوجوان جنہیں فوج میں لازمی سروس کے لیے بھرتی ہونا چاہیے تھا مختلف حیلوں بہانوں سے فوج میں بھرتی ہونے سے انکاری ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج میں سروس سے انکاری یہودیوں میں بڑی تعداد ’’حریدیم‘‘ یہودی مذہبی فرقے کے نوجوانوں کی ہے۔ گذشتہ برس یہ شرح 14.7 فی صد تھی جس میں اب غیرمعمولی اضافہ ہواہے جس کے بعد تازہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ 28.1 فی صد نوجوان فوج میں بھرتی سے انکاری ہیں۔ اگر فوج میں بھرتی سے انکار کا تناسب اسی طرح بڑھتا رہتا تو کچھ عرصہ بعد فوجیوں کی تعداد بہت کم رہ جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج میں بھرتی ہونے سے انکاری نوجوانوں میں غیر مذہبی نوجوان بھی شامل ہیں اور ان کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے خطوط بھیجے گئے تو ان میں سے 40 فی صد نے کوئی جواب تک نہیں دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج میں بھرتی ہونے کے بعد مختلف بہانوں سے فوجی سروس چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے فوجیوں کی تعداد 7.1 فی صد ہے جب کہ پانچ فی صد کو نفسیاتی عوارض کی بناء پر فوج کی ملازمت سے برخواست کیا گیا۔ ان میں سے 2.1 فی صد کا طبی معائنہ کیا گیا تو وہ صحت مند نکلے تھے۔
