فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کےدفتر سے ایک اپیل جاری کی گئی تھی جس میں ارکان کنیسٹ، اپوزیشن جماعتوں اور دائیں بازو کے مذہبی حلقوں، سماجی کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ وہ وزیراعظم کے خلاف احتجاج میں حصہ نہ لیں۔
نیتن یاھو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہےکہ اسرائیل میں وزیراعظم کی کرپشن کے خلاف عوام میں غم وغصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نیتن یاھو کو بھی خدشہ ہے کہ اگر احتجاج کی لہر مزید تیز ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ان کی حکومت خطرے میں پڑسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی اپیل کے بعد دو ارکان کنیسٹ اورن حزان اور یہودا گلیک جنہوں نے نیتن یاھو کی کرپشن کےخلاف کل ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے میں شرکت کا اعلان کیا تھا فیصلہ تبدیل کیا جب کہ دو دیگر ارکان روعی فولکمان اور راحیم عزاریا نے وزیراعظم کے خلاف کرپشن اسکینڈل کی وجہ سے ان کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئے۔ خیال رہے کہ دونوں ارکان اسرائیلی حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔
نیتن یاھو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ملک کے نمائندہ مذہبی رہنما (یہودی پیشوا) شرکت کررہے ہیں۔ ایک سرکردہ یہودی مذہبی ادارے’اورت شاوول‘ کے سربراہ یوفال شیرلو نے بھی وزیراعظم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
