رپورٹ کے مطابق عرب کمیونٹی کے رکن کنیسٹ کا ایک حالیہ بیان نیتن یاھو کو سخت گراں گذرا ہے۔ اس بیان میں ڈاکٹر جمال زحالقہ نے یہودی غنڈہ گردی، مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی یلغار کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہودیوں کو مسلمانوں کے مقدس مقام پر دھاوے بولنے کا موقع فراہم کررہا ہے۔
ڈیموکریٹک قومی سماج پارٹی کے رہنما نے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے فلسطینیوں کی شہادتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اسرائیلی حکومت اور فوج کو ہدف تنقید بنایا بلکہ انہوں نے فلسطینی تنظیموں پر بھی سخت نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ فلسطینی جماعتوں کی طرف سے ملک میں جاری تحریک کی قیادت ہاتھ نہیں لی جا رہی جس کے نتیجے میں بے گناہ فلسطینیوں کی اموات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کی تمام ترذمہ داری بھی اسرائیل پرعائد کی اور کہا کہ فلسطینیوں کو مشتعل کرنے اور انہیں احتجاج پرمجبور کرنے کے لیے اسرائیل خود سازش کررہا ہے تاکہ فلسطینی سڑکوں پرنکلیں اور اسرائیلی فوج ان پرگولیاں چلا کر شہید کرے۔
اس بیان پر نیتن یاھو نے اپنے قانونی مشیر سے کہا تھا کہ وہ جمال زحالقہ کے بیان کی عدالتی تحقیقات کرائیں اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
نیتن یاھو کے اس اقدام کے جواب میں جمال زحالقہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلسطین میں اشتعال پھیلانے کی ذمہ داری ان کی حکومت اور یہودی آباد کاروں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مظلوم ہیں اور اسرائیلی فوج ان پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے۔ نیتن یاھو کا یہ بیان قابل قبول نہیں کہ فلسطینی اسرائیلی فوج کو جوابی کارروائی پر مجبور کررہے ہیں۔
