فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 2 کی رپورٹ میں بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے ارکان کنیسٹ اور وزراء کے حرم قدسی میں داخلے کی اجازت کا معاملہ بھی پیش کیاگیا۔ وزیراعظم نے آئندہ منگل کو قبلہ اوّل اور حرم قدسی میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے بعد صہیونی ارکان کنیسٹ (پارلیمنٹ) کو مزید اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے اکتوبر 2015ء کو فلسطین میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے بعد ارکان کنیسٹ اور وزراء کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
تاہم عام صہیونی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی روز مرہ کی بنیاد پر بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔ جب سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے حرم قدسی کو اسلامی ثقافت کاحصہ قرار دیا ہے تب سے صہیونی آباد کاروں کے قبلہ اوّل پر دھاووں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اسرائیلی فوج اور پولیس صہیونی شرپسندوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔
