لندن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) تقسیم فلسطین کے حوالے سے تاریخ کے بدنام زمانہ معاہدہ ’بالفور‘ کو طے پائے آئندہ نومبر میں 100 سال پورے ہورہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’بالفور‘ نامی اس استعماری معاہدے کے خلاف فلسطینی اور عرب ممالک کی اقوام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک مہم بھی جاری ہے۔’بالفور ڈکلریشن استعماری منصوبے کے سوسال‘ کے عنوان سے یہ مہم عوامی کمیٹی کی جانب سے شروع کی گئی ہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن روان الضامن نے گذشتہ روز لندن میں میڈیاکے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ’معاہدہ بالفور‘ کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر اس کے حوالے سے عرب ممالک اور فلسطینی عوام کے خیالات میں یکسانیت اور ہم آہنگی پیدا کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امن وامان کی تباہی اور انسانی بحرانون کی بنیادی وجہ اور سبب یہ نام نہاد معاہدہ بالفور ہے۔ اس معاہدے نے خطے کی سیاست، تاریخ،جغرافیے، امن وامان اور انسانی ترقی پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس لیے فلسطینی قوم اور عرب ممالک کو تقسیم فلسطین کے اس نام نہاد معاہدے کے متبادل کے لیے کوششیں کرنے کا حق ہے۔
روان ضامن کا کہنا ہے کہ معاہدہ بالفور مغرب کی استعماری طاقتوں اور تاج برطانیہ کا ایک مذموم اقدام تھا جس کے تباہ کن اور بحرانی نتائج آج تک دنیا بھگت رہی ہے۔
اس معاہدے اور اس کے نتائج کی تمام ذمہ داری ان مغربی طاقتوں اور برطانیہ پرعائد ہوتی ہے جنہوں نے ایک سازش کے تحت فلسطین کو تقسیم کرنے اور ایک ناجائز ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔
خیال رہے کہ نومبر 1917ء کو برطانوی حکومت کی کوششوں سے یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو ’معاہدہ بالفور‘ کا نام دیا گیا تھا۔ رواں سال نومبر میں اس بدنام زمانہ معاہدے کو ایک سو سوال مکمل ہو رہے ہیں۔
معاہدہ بالفور کے ایک سول سال پورے ہونے پردنیا بھر میں فلسطینی اس کے خلاف آواز بلند کریں گے جب کہ صہیونی ریاست اور اس کی حامی طاقتیں اس معاہدے کا جشن منانے کی تیاری کررہی ہیں۔
