انقرہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ترک وزارت خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں حال ہی میں اعلان کردہ تین ہزار مکانات کے اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کی طرف سے صیہونی آباد کاری کے لیے تین ہزار نئے مکانات کی تعمیر امن مساعی کو تباہ کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا حصہ ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت تصورÂ کرتا ہے اور اس میں اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کے تصرف کو مسترد کرتا ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں صیہونی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں صیہونی آباد کاروں کے لیے مزید 3 ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ یہ مکانات گرین لاین سے باہر کے مقامات پر تعمیر کیے جائیں گے۔
عبرانی میڈیا کے مطابق مذکورہ مکانات جنوب مغربی بیت المقدس میں واقع ’جیلو‘ صیہونیÂ کالونی میں تعمیر کیے جائیں گے۔
عبرانی ٹی وی کے مطابق تین ہزار مکانات کی تعمیر کے لیے 280 دونم کی فلسطینی اراضی غصب کی گئی ہے۔
بیت المقدس کے اسرائیلی نائب میئر اور پلاننگ کمیٹی کے سربراہ مئر ترجمان نے کہا کہ آج ہم بیت المقدس کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلے طرف جا رہے ہیں۔ آج ایک تاریخی دن ہے اور ہم نے جیلو صیہونی کالونی میں ہزاروں مکانات کی تعمیر منظوری دی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں صیہونی بستیوں کو عالمی برادری کی طرف سے غیرقانونی قراردیا جا چکا ہے۔ عالمی برادری صیہونی بستیوں کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔
14 دسمبر 2017ء کو ’ریشٹ 14‘ٹی وی نےایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ صہیونی حکومت بیت المقدس میں ’عظیم تریروشلم‘ کے پروجیکٹ کے تحت 3 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے۔
