رپورٹ کے مطابق مراکشی پارلیمنٹ کی جانب سے محصورین غزہ کے ساتھ اظہاریکجہتی کی قرارداد کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکرمحمد یتیم کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کے محاصرے میں نہ صرف اسرائیل بلکہ کئی عرب ممالک بھی ملوث ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ غزہ کا محاصرہ فوری اور مکمل طورپر ختم کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر یتیم کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ اس کے لاکھوں باشندوں کو ذلت و رسوائی کا شکار کرنا ہے۔ لاکھوں افراد کی ناکہ بندی بدترین ظلم ہے۔ اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کی جانب سے غزہ کا محاصرہ اور بھی بڑا ظلم ہے۔ افسوس ہے کہ بعض عرب ممالک غزہ کی ناکہ بندی کے لیے اسرائیل کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مراکش کا مسئلہ فلسطین کےحوالے سے موقف اصولی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ مراکش غزہ کی ناکہ بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مذمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مبینہ غفلت کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے غزہ کے محصورین کو ان کے حقوق دلانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
