فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آوی گیڈور کا کہنا ہے کہ فوج میں سروس سے فرار اختیار کرنے والے افراد کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ اب تیزی کے ساتھ ہم ان تمام طبقات کو فوج میں شامل کریں گے جو اب تک فوج میں خدمات انجام دینے سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
لایبرمین نے مزید کہا کہ فوج میں خدمات انجام دینے سے فرار اختیار کرنے والے خود کو جرائم پیشہ افراد میں رجسٹرڈ کرائیں یا بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے لیے تیار رہیں۔
عبرانی سال نو کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لائبر مین نے کہا کہ اب اسرائیل کے ہر نوجوان شہری کو فوج میں خدمات انجام دینا ہوں گی۔ چاہے وہ عیسائی ہو، مسلمان ہو، عرب ہو، یہودی مذہبی تنظیموں سے تعلق ہو۔ اگر اس کی عمر اٹھارہ سال ہے تو اسے فوج میں لازمی خدمات انجام دینا ہوں گی۔
