فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی 7 نے اپنی رپورٹ میںÂ اسرائیلی حکومت کے ایک مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ فی الحال اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطوں کی کوشش کررہی ہے تاکہ فلسطین اور اسرائیل کی سربراہ قیادت کا اجلاس بلایا جاسکے تاہم اس باب میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پچھلے ہفتوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے درمیان براہ راست ملاقات کرائی جاسکتی ہے اور امریکی صدر ٹرمپ اس ملاقات کی خود نگرانی کریں گے۔
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے شرط پر اسرائیلی حکومتی ذریعے نے بتایا کہ فلسطینی دھڑوں میں مصالحت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست ملاقات کے امکان کم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ حماس اور تحریک فتح کے درمیان مصر کی زیرنگرانی مصالحتی معاہدے کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ دونوں ملک مخمصے کا شکار ہیں کہ آیا وہ فلسطینی مصالحت کو کس طرح ڈیل کریں۔
حالیہ دنوں میں یہ خبریں بھی آئی ہیں امریکی صدر کے داماد جارڈ کوشنر، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب گرین بیلٹ اور اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کا ایک فریم ورک تیار کررہی ہے۔ اس فریم ورک پر سنہ دو ہزار اٹھارہ کے اوائل میں عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔
