مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل ’7‘ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے ’حلمیش‘ صیہونی کالونی میں چاقو کےحملے میں صیہونی آباد کاروں کو ہلاک کرنے والے فلسطینی کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ روز عبرانی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی وزیر دفاع لائبرمین نے فلسطینی مزاحمت کار 19 سالہ عمر العبد کو تین صیہونی آباد کاروں کو چاقو کے وار سے ہلاکÂ کرنے کے الزام میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ رام اللہ کے جنوب مغربی قصبے کوبر سے تعلق رکھنے والے انیس سالہ عنر العبد نے 21 جولائی 2017ء کو ’حلمیش‘ صیہونی کالونی میں گھس کر چاقو کے وار کرکے تین صیہونی جنہم واصل اور ایک کو شدید زخمی کردیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے حملہ آور عمر العبد کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی جاری ہے موجودہ پالیسی کے تحت اسے کئی بار عمر قید کی سزا کا امکان ہے۔ تاہم صیہونی وزیر دفاع اور شدت پسند صیہونی لیڈر آوی گیڈور لائبرمین نے العبد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع کی طرف سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کل بدھ کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے لائبرمین کی جماعت ’اسرائیل بیتنا‘ کی طرف سے پیش کیے گئے ایک مسودہ قانون پر بحث شروع کی ہے جس میں صیہونی آبادکاروں اور فوجیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائے موت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
