مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی اخبارات کے مطابق صیہونی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں شہریوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے فلسطینی اتھارٹی کے متعدد ذیلی ادارے بند کردیے ہیں جب کہ پہلے سے پابندی کے شکار اداروں پر پابندی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ٹوڈے‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکام نے بیت المقدس میں سرگرم کئی فلسطینی فلاحی اداروں کو نوٹس جاری کیے ہیں جن میں ان کی القدس میں سرگرمیوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق داخلی سلامتی کے وزیر گیلا اردان نے جمعرات کو فلسطینی تنظیموں کو ایک نوٹس جاری کیا تھا جس میں بیت المقدس میں سرگرم فلسطینی اداروں کی بندش کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ اس نوٹسÂ کی نقول القدس میںÂ ایوان صنعت وتجارت، سپریم ٹورزم کونسل، فلسطین اسٹڈی سنٹر، کلب برائے اسیران، سماجی و شماریاتی اسٹڈی آفس کو ارسال کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ نوٹس سنہ 1994ء میں منظور ہونے والے اس قانون کی روشنی میں جاری کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی علاقوں میں فلسطینیوں کے دفاترÂ داخلی سلامتی کے وزیر کے حکم پر بند کیے جاسکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر گیلاد اردان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کے تمام علاقوں پر اسرائیل عمل داری کا اختیار ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو ان علاقوں میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
