مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ریاست نے عالمی سطح پر صیہونی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے جاری تحریک کے حوالے سے نام نہاد قانون پرعمل درآمد شروع کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ کی ’اخلاقیات کمیٹی‘ نے عرب ارکان کنیسٹ کو بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ عرب ارکان کنیسٹ بیرون ملک دوروں کے دوران اسرائیلی ریاست کے اقتصادی بائیکاٹ کی تحریک ’BDS‘ کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز عرب کمیونٹی کے دو منتخب ارکان یوسف جبارین اور حنین الزعبی بیرون ملک دوروں پر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
متوقع طور پر جبارینÂ امریکا میں ’Jewish voice for peace‘ کی دعوت میں شرکت کریں گے جب کہ حنین الزعبی آئرلینڈ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جانا چاہتی ہیں۔
کنیسٹ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیمیں اسرائیلی عہدیداروں اور ارکان کنیسٹ کو اپنی تقریبات میں شرکت کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کی دعوت پر کسی اسرائیلی عہدیدار کا کنیسٹ کے رکن کا شرکت کرنا اسرائیل کے خلاف سرگرم ہونے کے مترادف ہے۔
کمیٹی نے وضاحت کی ہے کہ جیوش وائس فار پیس امریکا میں سرگرم ان گروپوں میں شامل ہے جو اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اس لیے کسی رکن کنیسٹ کو بیرون ملکÂ جانے کی اسÂ لیے اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ بیرون ملک اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیں۔
عرب رکن کنیسٹ یوسف جبارین نے اسرائیلی کنیسٹی کی کمیٹی کےفیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی کنیسٹ کے رکن کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیوں کے حقوق کی سنیگن خلاف ورزی ہے۔
