سلام فیاض یونیورسٹی میں کامرس فیکلٹی کی عمارت کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے تاہم یونیورسٹی کے طلبہ نے انکا استقبال کرنے کے بجائے مغربی کنارے میں سرکاری اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے پر ان کے خلاف شدید احتجاج کیا۔طلبہ نے رام اللہ حکومت کے غیر آئینی وزیر اعظم سے تنخواہیں نہ دے کر قوم کے معماروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکا میں ہونے والا اس احتجاج سے سلام فیاض کی حکومت کو شدید دھچکا لگا ہے۔بے حساب غیر ملکی امداد وصول کرنے کے باوجود دو ماہ سے اساتذہ و ملازمین کو تنخواہیں نہ دینے اور مالی بحران کی وجہ سے متعدد محکموں کو بند کرنے والی حکومت کو اس
وقت بھی شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کم درجے کے ملازمین کو تنخواہوں سے محروم کرکے حکومت کے وزراء نے صرف ایک ہفتے کے دوران بیرونی دوروں پر چھ کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز بہا دیے تھے ۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
