(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کےذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ زیرحراست سابق صدر موشے کتساؤ کی جانب سے خود کشی کا خطرہ ہے اور اسی خطرے کے پیش نظرجیل میں ان کی سیکیورٹی بڑھا دی دی گئی ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ موشے کتساؤ کی جانب سے حال ہی میں اپنے وکلاء کے ذریعے ایک درخواست دی تھی جس میں اپیل کی گئی تھی انہیں دی گئی سزا میں تخیف کرتے ہوئے انہیں رہا کیا جائے تاہم صہیونی حکام نے سابق صدر کی درخوست مسترد کردی تھی۔رپورٹ کے مطابق 70 سالہ موشے کتساؤ کو دسمبر 2010 ء میں کرپشن اور خواتین کی عصمت ریزی کے الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا تھا۔ مختلف مقدمات میں سنائی گئی سزا 2018 ء میں پوری ہوگی تاہم سابق صدر کی خواہش ہے کی جیل میں ان کے حسن سلوک کی وجہ سے انہیں دو تہائی سزا پوری کرنے کے بعد رہاکردیا جائے۔
رپورٹر کا کہنا ہے کہ جیل میں قید سابق صدر نے حکام کی منتیں بھی کی ہیں اور اپنی رہائی کے لیے رو رو کر ان سے مطالبہ کیا مگرحکام نے ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد خدشہ ہے کہ وہ جیل میں خود کشی کرسکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر ان پر چوبیس گھنٹے سیکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں۔
