بانگی – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) وسطی افریقہ کے دارالحکومت بانگی میں گذشتہ منگل کو ایک مسجد میں دہشت گردوں کے حملے میں 20 نمازیوں کی شہادت نے برما میں مسلمانوں پر ریاستی دہشت گردی کی یاد گازہ کردہ ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ منگل کو بانگی کی ’کالونی پانچ کلو میٹر‘ میں ایک عیسائی دہشت گرد گروپ نے مسجد میں گھس کر 20 مسلمان نمازیوں کو شہید اور کئی درجن کو زخمی کردیا تھا۔ یہ واقعہ منگل کو جنوب مشرقی وسطی افریقہ کے دمبی کے علاقے میں پیش آیا۔دمبی کی حکماء کونسل کے ترجمان عبدالرحمان بومبو نے بتایا کہ مسجد میں نماز کی ادائیگی میں مصروف مسلمانوں پر ’الانٹی بالاکا‘ نامی عیسائی ملیشیا کے دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں بیس نمازی شہید ہوگئے۔
بومبو نے کہا کہ جمعہ کے روز علاقے میں سوگ منایا گیا اور شہداء کے ایصال ثواب کے لیے اجتماعی دعاؤں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
ادھر دوسری جانب وسطی افریقہ کی پانچ کلو میٹر کالونی کے ترجمان عثمان محمد نے مسلمانوں کے قتل عام پر مقامی آبادی کے رد عمل پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسجد میں عبادت میں مصروف مسلمانوں کا وحشیانہ قتل عام عیسائیوں کےÂ لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے فرقہ پرست اور دہشت گرد گروپ کو پناہ دینا بھی دہشت گردی کی حمایت اور معاونت کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ وسطی افریقہ میں مسجد میں نہتے مسلمان نمازیوں کے قتل عام پر حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
وسطی افریقہ میں فرقہ وارانہ تشدد کی لہر 2013ء میں بھی سامنے آئی تھی جب انٹیلی بالاکا نامی عیسائی دہشت گرد تنظیم اور سلیکا نامی مسلمان گروپ کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
گذشتہ منگل کو پیش آنے والا واقعہ حالیہ تاریخ کا سب سے خوف ناک ہے جس کے بعد ابھی تک علاقے میں مسلسل کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
