مقبوضہ بیت المقدس ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چن چن کر اپنی ٹیم میں ایسے لوگوں کو شامل کررہے ہیں جو صیہونی ریاست کے انتہائی قریب اور وفادار قرار دیے جاتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال جان بولٹن کی امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے اعلیٰ عہدے پر تقرری سے کی جاسکتی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جان بولٹن کو امریکا میں قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیے جانے کے بعد اسرائیل کے سیاسی حلقوں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی سیاسی قیادت کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں مسٹر بولٹن کو صیہونی ریاست اور صیہونیوں کا انتہائی قریبی اور طرف دار قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈانی ڈانون کا کہنا ہے کہ جون بولٹن اسرائیل کے گہرے دوست ہیں۔ وہ کئی سال سے انہیں جانتے ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ انہیں امریکا میں قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا جانا اسرائیل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ وہ جہاں اسرائیل کے حد درجہ حامی ہیں وہیں ایران کے اتنے ہی دشمن اور مخالف ہیں۔
جون بولٹن کو امریکا میں اعلیٰ عہدے پر تعینات کیے جانے پر اسرائیلی وزیر تعلیم نے اپنے رد عمل میں کہا کہ جون بولٹن ایک کامیاب سفارت کار ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے انتہائی قریب ہیں اور ہمیشہ صیہونی ریاست کے مفادات میں سوچتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر قانون ایلیت شاکید نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے حوالے سے اپنے وعدوں کو ایفاء کررہے ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر کے لیے جون بولٹن کو منتخب کرنا اسرائیل کے لیے ٹرمپ کے عہد وپیمان کا حصہ ہے۔ اسرائیلی وزیر مواصلات یسرائیل کاٹز نے کہا کہ میں جون بولٹن کو امریکی قومی سلامتی کا مشیر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ہم اُنہیں امریکا ہی نہیں بلکہ اسرائیل کا قومی سلامتی کا مشیر بھی خیال کرتے ہیں۔
