رباط (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے تاریخی شہر القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرغور کے لیے عرب پارلیمان کا ہنگامی اجلاس مراکش کے شہر دارالحکومت رباط میں ہوا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عرب پارلیمانی اتحاد کے چیئرمین الحیب المالکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کو عالم اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش قرار دیا۔اجلاس سے کویتی پارلیمان (مجلس الامہ) کے اسپیکر ڈاکٹر مرزوق الغانم نے القدس کے دفاع کے لیے مشترکہ ایکشن پلان مرتب کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ القدس کے دفاع کے لیے عرب اقوام کو عالمی فورمز پراپنی موجودگی اور حاضری یقینی بنانا ہوگی۔
مرزوق الغانم نے عرب پارلیمان پر زور دیا کہ وہ القدس کے دفاع اور امریکی صدر کے اقدام کے حوالے سے عالمی پارلیمانی اتحادوں اور مختلف براعظموں کے پارلیمانی بلاکوں کے ساتھ رابطہ کرنے اور انہیں اصل صورت حال کے حوالے سے آگاہ کرنے کی مہم چلائیں۔
اجلاس کے اختتام پر عرب ممالک کے حکمراںوں پر زور دیا گیا کہ وہ القدس کے دفاع کے لیے کمزور موقف اپنانے کےبجائے جرات مندانہ اور فیصلہ کن موقف اختیار کریں تاکہ امریکا اور اس کے حواریوں کو القدس اسرائیل کے حوالے کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑے۔
خیال رہے کہ مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے اسلامی تعاون تنظیم کی القدس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے 57 مسلمان ملکوں اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی طرف سے امریکی صدر کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا۔ انہوں نے اس مکتوب میں امریکی صدر پر واضح کیا ہے کہ القدس کے حوالے سے ان کا فیصلہ غیرمنصفانہ اور ناجائز ہے۔ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی نے کڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی۔
