عمان (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اردنی حکومت کے ایک مصدقہ سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے عمان حکومت کو اردن میں نئے سفیر کی تعیناتی کے بارے میں کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اردنی حکومت کو اسرائیل کی طرف سے عمان میں نئے سفیر کی تعیناتی اور مجوزہ سفارت کار کے بارے میں کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ اگر تل ابیب کی طرف سے ایسی کوئی درخواست دی جاتی ہے تو عمان حکومت دو سے تین ماہ کے عرصے میں اس کا جواب دے گی۔خیال رہے کہ حال ہی میں اردنی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ چھ ماہ کے تعطل کے بعد اسرائیل کو عمان میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان چند ماہ قبل اس وقت سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی جب عمان میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے دو اردنی شہریوں کو قتل کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اردن نے اسرائیلی سفیر اور دیگر عملے کو ملک سے نکال دیا تھا۔
حال ہی میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے اردن سے معافی مانگنے اور مقتولین کے لواحقین کو خون بہا ادا کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اردن نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرلیے تھے۔
اسرائیل نے اردن میں عینات شلائن کے بجائے ایک نیا سفیر متعین کیا ہے۔ اردنی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 23 جولائی 2017ءÂ اور 10 مارچ 2014ء کےÂ واقعات کے بعدÂ اسرائیل کی طرف سے معذرت کی گئی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے دو اردنی شہریوں کے قتل کے واقعے پر معافی مانگنے کے بعد دونوںÂ ملکوں نے سفارتی کشیدگی ختم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔
