فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ‘ٹوئٹر‘Â پر پوسٹ ایک بیان میں امریکی سفیر نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے خلاف مزاحمت کاروں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بیان دو روز قبل غرب اردن میں ایک یہودی آباد کار کی فائرنگ میں ہلاکت کے تناظر میں جاری کیا گیا۔
فریڈمن نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے قوانین مزاحمت کاروں کے اہل خانہ کو مالی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ یوں فلسطینی اتھارٹی سرکاری سطح پر ان فلسطینیوں کے اہل خانہ کی مالی مدد کرتی ہے جو اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں کے الزام میں گرفتار یا قتل کردیے جاتےہیں ان کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو مزاحمت کاروں کے اہل خانہ کی امداد سے باز رکھنے کے لیے اس پر مالی پابندیاں عائد کرنا ضروری ہیں۔
امریکی سفیر نے الزام لگایا کہ امن عمل کی راہ میں اسرائیل نہیں بلکہ فلسطینی خود ہیں جو امن مساعی کو آگے بڑھانے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
حال ہی میں اسرائیلی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ کو سالانہ ایک کروڑ 60 لاکھÂ ڈالر کی رقم ادا کی جاتی ہے۔
