فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی پارلیمنٹ میں یہودی کالونیوں کو آئینی قرار دینے سے متعلق بل کہ منظوری کے لیے رائے شماری کی گئی۔ ابتدائی رائے شماری میں 60 ارکان نے اس کی حمایت کی جب کہ 49 ارکان نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ مخالفت کرنے والوں میں حکمراں جماعت ’’لیکوڈ‘‘ کے رکن بینی بیگن بھی شامل ہیں۔ بل کو قانونی شکل دینے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی ان تمام یہودی کالونیوں کو آئینی اور قانونی حیثیت مل جائے گی جنہیں یہودی آباد کاروں نے اپنی مرضی سے تعمیر کیا ہے۔ ان میں ’’عمونا‘‘ نامی یہودی کالونی بھی شامل ہے جسے خالی کرنے کے لیے اسرائیلی سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دے رکھا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ریڈیو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی نجی اراضی غصب کرنے کے بعد اس پر تعمیر کی گئی یہودی کالونیوں کو قانونی حیثیت دینے کے ساتھ ان کالونیوں میں استعمال کی جانے والی فلسطینی اراضی کے مالکان کو معاوضہ ادا کرکے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
ادھر اقوام متحدہ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ نیکولائے میڈینوف نے صہیونی پارلیمنٹ میں یہودی کالونیوں کو قانونی حیثیت دینے کے بل کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری کےبعد مقبوضہ مغربی کنارے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
