(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطینیوں کی تلاشی کی آڑ میں یہودی فوجی ان سے نقدی اور موبائل سمیت ہرقیمتی چیز چھین لیتے ہیں جس کے نتیجے میں فلسطینیوں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی بارڈر فورس کے اہلکار تلاشی کی کارروائیوں کے دوران فلسطینیوں کے موبائل اور نقدی ضبط کرلیتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقے میں قائم اسرائیل کی سینٹرل عدالت نے ایک اسرائیلی پولیس اہلکار کو 36 اور دوسرے کو 34 ماہ قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان پر فلسطینیوں کی تلاشی کی کارروائیوں میں ان کے موبائل اور نقدی چھیننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ان پولیس اہلکاروں پرالزام ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی شہر الرملہ میں فلسطینیوں کی تلاشی لے رہے تھے جہاں سےانہوں نے فلسطینیوں کی جیبوں میں موجود نقدی اور موبائل ان سے چھین لیے۔
اسرائیلی عدالت نے ایک فوجی اہلکار کو بھی 20 ماہ قید کی سزا کا حکم دیا ہےجس پر فلسطینیوں ذاتی استعمال کی چیزیں، نقدی اور موبائل چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی تلاشی کی کارروائیوں میں لوٹ مار اسرائیلی فوج کا معمول ہے مگر بہت کم فلسطینیوں کی شکایات پرعمل درآمد کیا جاتا ہے۔ مغربی کنارے، بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے فلسطینی باشندوں کی جانب سے بڑی تعداد میں لوٹ مار کی شکایات درج کی گئی ہیں۔
