رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلروں کی جانب سے 15 سال یا اس سے بھی کم عمر فلسطینی بچوں سے جیلوں میں بیگار لی جاتی ہے اور کم سن فلسطینی بچوں سے جبری مشقت کے دوران انہیں اذیتیں بھی دی جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل کی ’’اوفیک‘‘ نامی ایک جیل میں مقید فلسطینی بچوں سے بیگار لی جا رہی ہے۔ بعض بچوں کو دن بھر کی غیرمعمولی مشقت کے عوض انہیں تین سے چار ڈالر ادا کیے جاتے ہیں جب کہ بیشتر بچوں کو یہ بھی نہیں دیے جاتے اور ان سے مشقت لی جاتی ہے۔
غرب اردن کے بیت لحم شہر سے تعلق رکھنے والے اسرئیلی جیل میں قید بچے عاید طقاطقہ کی والدہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا بھی ’اوفیک‘ جیل ہی میں قید ہے اور اس سے بھی یومیہ چار ڈالر یا پندرہ شیکل کے عوض مشقت لی جاتی ہے۔ اسیر بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ بچوں کو جیل میں برائے نام خوراک دی جاتی ہے مگر ان سے دن بھر مشقتی کام کرائے جاتے ہیں۔
قدس پریس کا کہنا ہے کہ ’اوفیک‘ جیل میں ڈالے گئے فلسطینی بچوں میں 17 سالہ فادی طاقطقہ بھی شامل ہیں۔ اسے عوفر جیل سے اوفیک جیل منتقل کیا گیا جہاں ایک چھوٹے سے تنگ کمرے میں تین قیدیوں کو ٹھونسا گیا ہے۔ ان تینوں کم عمر فلسطینیوں سے دن بھری مشقتی کام لیا جاتا ہے اور انہیں چوبیس گھنٹے میں صرف ایک گھنٹے کے لیے قید خانے سے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی قید خانوں میں فلسطینی بچوں سے جبری مشقت اور بیگار لیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے واقعات کی عالمی سطح پر ٹھوس تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
