مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار اور انتہا پسند رکن کنیسٹ نے ایک اشتعال انگیز بیان میں نہ صرف فلسطینی قوم بلکہ پورے عالم اسلام کے جذبات کو مشتعل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں ماحولیاتی کمیٹی کے چیئرمین اور حکمران جماعت ’لیکوڈ‘ کے لیڈر یوآف کیش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’عرب باشندوں کو اپنی نمازوں میں ’اللہ اکبر‘ کہنے کے بجائے’اسرائیل اکبر‘ کہنا چاہیے۔انتہا پسند صیہونی لیڈر کے اس اشتعال انگیز بیان پر فلسطینی قوم سراپا احتجاج ہے اور کیش سے اپنا بیان واپس لینے اور عالم اسلام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
قبلہ اوّل کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی لیڈر کا بیان اس کے تکبر اور بغاوت کا کھلا ثبوت ہے۔ ہمارا ایمان اور یقین ہے کہ اللہ سے بڑا کوئی نہیں۔ اسرائیل اور اس کے لیڈر دنیا اور آخرت میں رسوا ہونے والے ہیں۔
الشیخ صبری نے کہا کہ لیکوڈ کے رکن کا بیان تباہی کی چوٹی کو عبور کرنا ہے۔ ہم کنیسٹ کے عرب ارکان کی طرف سے کیش کے متنازع اور اشتعال انگیز بیان کے جواب میں اس مغرور شخص کا مقابلہ کرنا قابل تحسین امر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی بزرگی پرایمان ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ صیہونی لیڈر نے ذات باری تعالیٰ کی مجرمانہ توہین کا ارتکاب کرکے اپنی گندی ذہنیت کا کھلا ثبوت دیا ہے۔
ادھر فلسطین میں مختلف مقامات پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی اسرائیلی لیڈر کے متنازع بیان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی کنیسٹ کےعرب ارکان نے کیش کے اشتعال انگیزبیان کے بعد ایوان کے اندر کھڑے ہو کر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ عرب رکن کنیسٹ احمد الطیبی اللہ اکبر کا نعرہ نہ صرف ہم مسلمان لگا رہےہیں بلکہ اسرائیلیوں کو بھی ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگانا چاہیے۔
