مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی اٹارنی جنرل فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دیے جانے سے متعلق قانون سازی کی مخالفت کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل افیحائی منڈلبلیٹ نے فدائی حملوں کے الزام میں گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت دیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس قانون پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ میں حال ہی میں ایک نیا مسودہ قانون پیش کیا گیا۔ ’یسرائیل بیتونو‘ کی طرف سے پیش کردہ مسودہ قانون میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں صیہونی آباد کاروں اور فوجیوں پر فدائی حملوں کے الزام میں گرفتارفلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل منڈلبلیٹ حکومت اور کابینہ کے سامنے فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت سے متعلق قانون کے بارے میں اپنی تفصیلی رائے پیش کریں گے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو یورپی ملکوں کی پالیسی پر چلتے ہوئے سزائے موت سے متعلق قانون منظور نہیں کرنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل پہلے بھی فلسطینی اسیران کو سزائے موت دیےجانے کی قوانین اور تجاویز کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل کے سول اور فوجی قوانین میں قیدیوں کو سزائے موت کی سفارش کی گئی ہے مگر قیام اسرائیل سے اب تک اس قانون پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
