(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اردن کی حکومت نے غزہ کی پٹی سمیت دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے عارضی پاسپورٹس کے حامل شہریوں کے ’ورک پرمٹ‘ فیس لازمی قرار دینے کافیصلہ واپس لے لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اردنی حکومت نے اپنے ایک تازہ فیصلے میں کہا ہے کہ ملک میں عارضی طورپرمقیم شہریوں کے لیے ملازمت کے حصول کی اضافی فیس کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شہری جو اردن کے عارضی پاسپورٹ پر یہاں رہ رہا ہو وہ کسی فیس کے بغیر ملازمت کے حصول کے لیے پرمٹ حاصل کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ اردنی حکومت کی جانب سے حال ہی میں یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ اردن میں عارضی پاسپورٹس رکھنے والے دوسرے ملکوں کے شہریوں اور غزہ کے لاکھوں افراد کو کام کاج اور ملازمت کے حصول کے لیے پرمٹ حاصل کرنا ہوگا جس کی انہیں اضافی فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔ اردن میں عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا جس پر حکومت کو فیصلہ تبدیل کرنا پڑا ہے۔
یاد رہے کہ اردن میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے عارضی طورپر مقیم شہریوں کی تعداد سات سے نو لاکھ کے درمیان ہے۔ غزہ کے شہریوں کو فلسطین کے سنہ 1948 ء اور 1967 ء کی جنگوں میں ھجرت کرکے آنے والے فلسطینی پناہ گزینوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ فلسطینی پناپ گزینوں کو اردن میں مکمل شہری حقوق حاصل ہیں مگر غزہ کے شہریوں کو عارضی قیام کی سہولت میسرہے۔ اردن نے غزہ کے لاکھوں افراد کوعارضی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔ غزہ کے شہری اردن میں غیرملکی اداروں، سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور جامعات میں دوسرے فلسطینیوں کی طرح آزادانہ داخلہ نہیں لے سکتے ہیں جب کہ فلسطین کے دوسرے علاقوں سے ھجرت کرکے وہاں آنے والے ان تمام حقوق کے حق دار سمجھے جاتے ہیں۔
