رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں ’’دیوار براق‘‘ جسے یہودی ’’دیوار گریہ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں کے صحن کی توسیع اور یہودیوں کی مخلوط عبادت کے لیے مزید جگہ بنانے کی خاطر 35 ملین شیکل کی رقم مختص کرنے پر بحث کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت دیوار براق کے مقام کو یہودی عبادت گذاروں کی خاطر وسیع کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 35 ملین شیکل بجٹ کی تخصیص کا اعلان کیا گیا تھا جس پرکابینہ میں بحث جاری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیوار براق کے صحت کی وسعت اور اس کی از سرنوع تعمیر ومرمت کی خاطر مزید بجٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت یہودی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں مخلوط اور الگ الگ عبادت کے لیے خواتین اور مردوں کے لیے جگہ مختص کرنا ہے۔ دیوار براق کا موجودہ صحن یہودیوں کی عبادت کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔
اسرائیلی وزارت برائے ایمی گریشن، وزیراعظم ہاؤس اور وزارت خزانہ نے مشترکہ طورپر توسیع صحن براق کے لیے 35 ملین شیکل کے بجٹ کا اعلان کیا ہے جب کہ عالمی یہودی ایجنسی کی جانب سے بھی اس منصوبے کے لیے 10 ملین ڈالر کی رقم فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مسجد اقصیٰ سے متصل تاریخی مقام”دیوار براق” اور اس کے قرب وجوار کو یہودیانے کے لیے 100 ملین شیکل یعنی 25 ملین ڈالر کی منظوری دے تھی ۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ہفتہ وار اجلاس میں کابینہ نے بیت المقدس کے اہم تاریخی مقامات میں سرمایہ کاری اور دیوار براق کو یہودیانے کے لیے لاکھوں شیکل کی منظوری دی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں "دیوار گریہ”(دیوار براق) کے زائرین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ القدس کا باشندہ ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ میں یہودیوں کی مذہبی ضروریات کا خیال رکھوں اور انہیں "دیوار گریہ ” تک رسائی کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کروں۔ میری کابینہ بھی بیت المقدس میں تعمیرات جاری رکھنے کی پابند ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی کابینہ کی جانب سے بیت المقدس میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے لیے لاکھوں ڈالر کے بجٹ کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی ہے جب گذشتہ روز صہیونی وزیراعظم نے بیت المقدس اور مغربی کنارے کے امور کے لیے ایک ایسے شخص کو وزیرمقرر کیا ہے جو ماضی میں فلسطین دشمنی اور غیرقانونی یہودی تعمیرات کے حوالے سے بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔
