(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید 22 فلسطینی سرطان جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے بعض قیدی پچھلے 15 سال سے زندانوں میں بند ہیں مگرآج تک ایک بار بھی ان کے علاج کے لئے معائنہ نہیں کرایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مرکز اسیران اسٹڈی سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ اسرائیل جیل انتظامیہ کینسر میں مبتلا فلسطینی قیدیوں کے حوالے سے دانستہ لاپرواہی کا مرتکب ہورہی ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ کینسر کے مرض کا شکار فلسطینی قیدیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ صہیونی جیلر قیدیوں کے حوالے سے دانستہ لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ تمام قیدی صرف زندہ ہیں ورنہ ان کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں دانستہ لاپرواہی سے اب تک کئی فلسطینی سسک سسک کر موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ ان میں میسرہ ابو حمدہ شہید کا نام بھی شامل ہے جو کئی سال تک سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد اسرائیلی جیل میں دم توڑ گئے تھے۔
