رپورٹ کے مطابق ’اسیران فلسطین اسٹڈی سینٹر‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے اسیر 40 سالہ اکرم ابراہیم محمود القواسمی بھی اپنی 20 سال اسیری مکمل کرنے کے بعد 21 سال میں داخل ہوگئے ہیں۔
القواسمی کو اسرائیلی فوج نے 28 مارچ 1996 ء کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ سے تعلق اور دیگر الزامات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ سنہ 1994 ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے سے قبل حراست میں لیے گئے 30 فلسطینی ابھی تک صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
ان میں سے 7 اسیران اپنی اسیری کے 30 سال مکمل کرنے کے بعد اب 31 ویں سال میں داخل ہوچکے ہیں۔ سب سے پرانے اسیر کریم یوسف یونس ہیں جو سنہ 1983 ء سے اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
