رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں 10 لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ سنہ 1990 ء کے عشرے میں پانچ فی صد یہودیوں کو فلسطینی علاقوں میں لا کر آباد کیا گیا مگر وہ اب اسرائیل چھوڑ کر کینیڈا اور دوسرے ملکوں میں جا بسے ہیں۔
رپورٹ میں ایک ایسے ہی یہودی کا بیان نشر کیا گیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ جب اسے سوویت یونین سے اسرائیل منتقل کیا گیا تو اس کی عمر صرف چھ سال تھی۔ اس کے ساتھ سیکڑوں اور یہودی خاندان اور نوجوان بھی فلسطینی علاقوں میں قائم کردہ یہودی کالونیوں میں بسائے گئے تھے۔ فلسطین سے نکل جانے والے یہودی کا کہنا ہے کہ میں نے اسرائیلی فوج میں بھی خدمات انجام دیں، وہیں شادی بھی کی مگر مجھے ایسے لگا کہ اسرائیلی معاشرے میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے میں اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا آگیا ہوں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1990 ء کےعشرے میں اسرائیل میں آباد ہونے والے 15 فی صد یہودی اسرائیل چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا بسے ہیں۔
