(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت نے شام کے مقبوضہ وادی گولان کے علاقے میں اگلے پانچ سال کے دوران مزید 19 یہودی کالونیوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کالونیوں میں 1500 یہودی خاندانوں کو بسانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وادی گولان میں یہودی کالونیوں کے قیام کے لیے اسرائیل کے مستقل فنڈ نامی ادارے کی جانب سے تعاون کیا گیا ہے اور یہ منصوبہ آئندہ پانچ سال میں پایہ تکمیل تک پہینچے گا۔اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وادی گولان میں قائم کی جانے والی یہودی کالونیوں میں موبائل گھر تعمیر کیے جائیں گے جنہیں کھول کر کسی بھی دوسرے مقام پر دوبارہ سے مکان کی شکل میں جوڑا جاسکے گا۔
اس منصوبے پر رواں سال موسم گرما میں عمل درآمد شروع ہوگا اور ہرکالونی میں 10 مکان تعمیر کیے جائیں گے۔ ایک مکان کی وسعت 45 سے 60 میٹر تک ہوگی۔
