(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی’’سالم‘‘ نامی ایک فوجی عدالت نے پانچ کم عمر فلسطینیوں کو مجموعی طورپر 15 سال قید اور 30 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔ پانچوں فلسطینیوں پر الزام ہے کہ وہ تین سال قبل ایک یہودی آباد کار کے غیر ارادی قتل میں ملوث ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز صہیونی عدالت نے شمال مغربی سلفیت کی حارس کالونی کے رہائشی فلسطینیوں کو قید اور جرمانوں کی سزاؤں کا حکم دیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کلب برائے اسیران کے مندوب ایاد محامید کا کہنا ہے کہ صہیونی عدالت کی جانب سے جن پانچ فلسطینیوں کو مجموعی طورپر پندرہ سال قید اور تیس ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی ہے انہیں سنہ 2013 ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی شناخت عمار صوف ،تامر صوف، محمد کلیب، محمد سلیمان اور علی شملاوی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ سنہ 2013ء میں یہودی آباد کاروں کی ایک گاڑی پر سنگ باری کی تھی جس کے نتیجے میں گاڑی بے قابو ہوکر الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک یہودی عمر رسیدہ خاتون ہلاک ہوگئی تھی۔
