(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے حراست میں لیے گئے 15 فلسطینیوں کو قید تنہائی میں ڈالنے کا حکم دیا ہے جب کہ دو فلسطینیوں کو قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز صہیونی عدالت کی جانب سے پندرہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کرانہیں قید تنہائی میں ڈال دیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ قید تنہائی میں ڈالے گئے فلسطینیوں کی حالت نہایت خوفناک ہے۔ جن کال کوٹھڑیوں میں فلسطینیوں کو ڈالا گیا ہے وہ قبروں کے گڑھوں کی مانند ہیں جہاں گندگی اور کیڑے مکوڑوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
فلسطینی محکمہ اسیران نے اسرائیلی فوج اور تفتیشی اداروں کی جانب سے آئے روز جیلوں پرچھاپوں اور قیدیوں کوزدو کوب کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ صہیونی جیلر قیدیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔ قیدیوں کو ان کی ضروریات کی فراہمی میں کھلے عام غفلت کامظاہرہ کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے بعض قید خانوں میں کئی فلسطینی تین تین سال سے قید تنہائی کا شکار ہیں۔ اسرائیلی خفیہ ادارہ ’’شاباک‘‘ ہر چھ ماہ بعد ان قیدیوں کی تنہائی کی سزا میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردیتا ہے۔
ادھر فلسطین میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صہیونی فوجی عدالت نے دو فلسطینیوں 22 سالہ احمد ابو الرب کو 31 ماہ قید اور 1650 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ جب کہ ایک دوسرے فلسطینی 23 سالہ خیل ابو الرب کو 26 ماہ قید اور 1400 ڈالر جرمانہ کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔
